ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جے ڈی ایس کے تمام 7باغی اراکین مستعفی؛ میسور میں راہل گاندھی کی موجودگی میں باقاعدہ کانگریس میں شمولیت

جے ڈی ایس کے تمام 7باغی اراکین مستعفی؛ میسور میں راہل گاندھی کی موجودگی میں باقاعدہ کانگریس میں شمولیت

Sun, 25 Mar 2018 10:42:10    S.O. News Service

بنگلورو، 24؍مارچ(ایس او نیوز) جنتادل سکیولر کو آج اس وقت شدید دھکا لگا جب اس کے مزید چار باغی اراکین اسمبلی نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے حق میں کراس ووٹنگ کرنے کے بعد جے ڈی ایس کے چار باغی اراکین اسمبلی کے کانگریس میں شامل ہونے کی راہ ہموار کرنے کے لئے استعفیٰ دے دیا۔ بی زیڈ ضمیر احمد خان، اکھنڈ سرینواس مورتی، این چلوارائے سوامی اور بھیمانائک آج صبح اسمبلی اسپیکر کے بی کولیواڈ کی رہائش گاہ پہنچ کر اپنے استعفیٰ نامے پیش کردیئے۔ جبکہ سہ پہر تین بجے اقبال انصاری اور بال کرشنا نے بھی اپنے استعفیٰ نامے دے دیئے۔ کل راجیہ سبھا پولنگ کے بعد رمیش بنڈی سدے گوڈا نے بھی استعفیٰ دے دیاتھا۔ اس طرح جے ڈی ایس کے تمام 7؍باغی اراکین اسمبلی نے اسمبلی رکنیت سے اپنے استعفیٰ دے دیئے ہیں۔ یہ تمام 7؍اراکین کل 25؍مارچ کو میسور میں کانگریس صدر راہل گاندھی کی موجودگی میں باقاعدہ کانگریس میں شامل ہوجائیں گے جس کے بدلے آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان ساتوں لیڈروں کو کانگریس انہیں حلقوں سے پارٹی ٹکٹ دے گی، جہاں کی وہ اب تک نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ان ساتوں اراکین اسمبلی نے اپنی پارٹی بالخصوص جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ حالانکہ جے ڈی ایس نے بہت پہلے ہی انہیں پارٹی سے نکال دیاتھا۔ کل راجیہ سبھا کے لئے ہوئے انتخابات میں کانگریس کے تیسرے امیدوار کو کامیاب بنانے کانگریس کی حکمت عملی کے تحت ان باغی اراکین اسمبلی نے اب تک اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ کولیواڈ نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ انہوں نے جے ڈی ایس کے تمام اراکین اسمبلی کے استعفیٰ نامے قبول کرلئے ہیں۔ کیوں کہ یہ تمام درست پائے گئے۔ انہوں نے بتایاکہ آج ضمیراحمد خان، چلوارائے سوامی، اکھنڈ سرینواس مورتی، بھیمنا نائک، اقبال انصاری اور بال کرشنا نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیئے۔ جب میں نے ان سے استعفیٰ دینے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایاکہ انہوں نے رضاکارانہ طورپر استعفیٰ دیا ہے کسی کا سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ اس لئے میں نے ان تمام کے استعفیٰ قبول کرلئے ہیں۔ استعفیٰ دینے کے بعد ضمیراحمد خان نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ وہ جے ڈی ایس سے اس لئے باہر نکل گئے کیوں کہ اب یہ پارٹی ون مین شو بن کر رہ گئی ہے۔ پہلے اس کو باپ بچوں کی پارٹی کہا جاتا تھا۔ لیکن اب پارٹی پر صرف کمار سوامی کا راج چلتاہے۔ وہ کسی بھی معاملہ میں کسی کی سنتے ہی نہیں۔ کل ریاستی اسمبلی سے راجیہ سبھا کے لئے ہوئے انتخابات میں حکمران کانگریس کے دو امیدواروں کی جیت یقینی تھی۔ لیکن تیسری سیٹ کانگریس کے لئے بونس تھی۔ کیوں کہ اس میں جے ڈی ایس کے تمام 7؍باغی اراکین اسمبلی کے علاوہ آزاد اراکین نے بھی کانگریس کی تائید کی تھی۔ حالانکہ ایوان میں جے ڈی ایس کے صرف 37؍اراکین کی تعداد ہے جن میں 7؍باغی اراکین بھی شامل ہیں۔ جبکہ راجیہ سبھا جانے ہر امیدوار کے لئے 44؍ووٹس درکار تھے۔ اس کے باوجود جے ڈی ایس نے بی ایم فاروق کو میدان میں اتارا۔ لیکن پولنگ کے عین وقت الیکشن افسر پر کانگریس کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے پولنگ کابائیکاٹ کردیا۔


Share: